Pakistani Army killed Usama Bin Laden near Kakool academy

Pakistani Army killed Usama Bin Laden near Kakool academy

Pakistani Army killed Usama Bin Laden near Kakool academy

امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے اعلان کیا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکی فوج نے ہلاک کر دیا ہے۔ صدر اوبامہ نے یہ اعلان وائٹ ہاوس میں میڈیا سے اپنے براہ راست خطاب میں کیا۔

صدر اوبامہ نے کہا کہ امریکی فوج کی ایک ٹیم نے یہ آپریشن پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں کیا جہاں اسامہ بن لادن ایک گھر میں چھپے ہوئے تھے۔

امریکی صدر نے کہا کہ اسامہ بن لادن کی لاش امریکی فوج نے حاصل کر لی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں تین اور افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں جن میں اسامہ بن لادن کے ایک بیٹے کے علاوہ ایک خاتون بھی شامل ہیں۔

امریکی اوبامہ نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کے تعاون سے امریکی فوج کے خصوصی دستے اس جگہ پر پہچنے میں کامیاب ہوئے جہاں اسامہ بن لادن چھپے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے صدر کا عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا کو ہدایت دی تھی کہ اسامہ کی ہلاکت یا گرفتاری ان کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔

صدر اوبامہ نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے اس آپریشن کی منظوری دی تھی۔

عینی شاہد کا بیان

ایبٹ آباد میں ایک عینی شاہد نے نامہ نگار ذوالفقار علی کو بتایا کہ کاکول کے قریب واقع پاکستان ملڑی اکیڈمی کے نواح میں ٹھنڈا چوہا نامی علاقے میں پاکستان کی فوج نے گزشتہ رات اچانک ایک بڑی کارروائی شروع کی۔

اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں تین اور افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں جن میں اسامہ بن لادن کے ایک بیٹے کے علاوہ ایک خاتون بھی شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے فوج نے مقامی آبادی سے کہا کہ وہ اپنے گھروں کی روشنیاں بجھا دیں اور گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

عینی شاہد نے کہا کہ فوجی کارروائی شروع ہونے کے کوئی دوگھنٹے بعد ایک دھماکے کی آواز سنائی دی اور اس کے ساتھ ہی گولیاں چلنے کی آواز آئی اور پھر توپ کے گولے کی طرح کی زوردار آواز سنی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ ہی ہیلی کاپٹر ایک حویلی نما گھر کے باہر گر کر تباہ ہوگیا اور آگ لگ گئی۔ انھن کا کہنا تھا اس کارروائی میں دو ہیلی کاپڑ حصہ لے رہے تھے۔

انھوں نے یہ بھی کہا جس مکان کے باہر یہ ہیلی کاپڑ گرا تھا یہ وہی مکان تھا جو فوجی کارروائی کا مرکز تھا۔

اس شحص کے مطابق یہ مکان تین سے چار کنال پر پھیلا ہوا ہے اور اس کے ارد گرد بارہ سے چودہ فٹ اونچی دیوار بنائی گئی ہے جس کی وجہ سے گھر کی پہلی منزل نظر نہیں آتی ہے۔

انھوں نےبتایا کہ اس مکان کی چار دیواری پر خاردار تار بھی لگائی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس کارروائی کے دوران بچوں کے چیخنے کی آوازیں بھی سنائی دیں اور یہاں عورتیں اور مرد مقیم تھے۔

عینی شاہد کا کہنا ہے کہ انھوں نے تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کے حصے خود اٹھائے اور بظاہر یہ لگ رہا تھا کہ یہ گرا نہیں بلکہ گرایا گیا تھا۔

عینی شاہد کا کہنا ہے کہ انھوں نے وہاں چند ایک فوجی جیکٹس بھی پڑی ہوئی دیکھیں جس سے بظاہر لگتا ہے کہ کوئی سکیورٹی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں ایک خاتون بھی ہلاک ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ جو ہیلی کاپڑ استتعمال ہوئے ان کی بناوٹ سے لگتا ہے کہ وہ امریکی ہیلی کاپٹر تھے لیکن وہ وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ گھر دس بارہ سال پہلے ایک پشتون نے تعمیر کیا تھا اور مقامی لوگوں کو کبھی اندازہ نہیں ہوا کہ یہاں کون لوگ رہتے ہیں۔

صحافیوں کو ہدایات

ایک مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فوج کی بڑی تعداد نے ابھی تک ایک وسیع علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور کاکول میں واقع پاکستان ملٹری اکیڈمی کی طرف جانے والی تمام سڑکیں بند کردی گئی ہیں۔

مقامی سول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فوج نے انھیں اس کارروائی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا اور مقامی انتظامیہ اور پولیس کو جائے حادثہ پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد علاقے میں فوج کی غیر معمولی اور وسیع پیمانے پر نقل و حرکت دیکھی گئی جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔

 

ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں فوجی اہلکار وہاں موجود ہیں اور انھوں نے فوج کی کئی ٹرک جائے حادثہ کی طرف جاتے ہوئے دیکھے ہیں۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے واقعے کی جگہ کے قریب لگ بھگ ایک درجن ایمبولینسز اور فائر انجن بھی کھڑی دیکھیں۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ انھیں بھی اس طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور فوج نے تصویریں لینے سے بھی سختی سے منع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے کی جگہ پر فوج کے اعلیٰ حکام بھی پہنچ گیے تھے جو بعد میں واپس چلے گئے۔

امریکہ کو گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے دہشت گرد حملوں سے پہلے ہیں اسامہ بن لادن کی تلاش تھی۔

گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے روز نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر ہونے والے حملوں میں تین ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے۔

ان واقعات کے بعد سے اسامہ امریکہ کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں پہلے نمبر پررہحے ہیں۔

اسمہ بن بن لادن کی ہلاکت کی خبر ملتے ہی وائٹ ہاوس کے باہر لوگ جمع ہو گئے اور انہوں نے خوشی میں نعرے لگائے۔

source : bbcurdu.com

مریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ وہ امریکی عوام اور دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ  اسامہ بن لادن کو امریکی اہلکاروں نے پاکستان کے شمال مغربی شہر ایبٹ آباد میں اتوار کی شب ایک آپریشن میں ہلاک کر دیا۔

صدر اوباما نے اس آپریشن میں پاکستانی تعاون کا بھی ذکر کیا۔

وائٹ ہاؤس سے صدر براک اوباما نے اپنی تاریخی مختصر تقریر میں  کہا کہ انہیں یہ اطلاع ملی تھی کہ اسامہ پاکستان میں چھپا ہوا ہے اور آج ان کی اجازت کے بعد اس کمپاؤنڈ پر حملہ کیا گیا اور ایک مختصر امریکی ٹیم نے ایک جھڑپ کے بعد اسامہ کو مار دیا۔ ان کی لاش کو قبضے میں لے لیا۔

پاکستان میں سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو کاکول چھاؤنی میں پاکستان ملٹری اکیڈمی سے محض تین کلومیٹر دور بلال کالونی میں اس کی پناہ گاہ پر ایک کارروائی کر کے ہلاک کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے اتوار کی شب سے اس مہنگے رہائشی علاقے کا محاصرہ اور اس کے مشتبہ حصوں میں تلاش کا کام جاری رکھا۔

 

 

صدر اوباما وائٹ ہاؤس میں بن لادن کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے

 

 

 

وائٹ ہاؤس میں اپنی تقریر میں صدر اوباما نے کہا کہ ستمبر 2001ء میں امریکہ پر دہشت گرد حملوں کے منصوبہ ساز کو کیفرکردار تک پہنچا دیا گیا ہے۔

 

اوباما نے کہا کہ ’’پچھلے 10 سالوں میں امریکہ نے کئی قربانیوں کے بعد یہ اہم مقصد حاصل کیا ہے۔ میں نے امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد (سی آئی اے ڈائریکٹر) لیون پناٹا کو ہدایت کی کہ اُن کی تمام تر توجہ اسامہ کو زندہ یا مردہ پکڑنے پر ہونی چاہیئے۔‘‘

امریکی صدر نے بتایا کہ انٹیلی جنس اداروں نے کئی سال کی انتھک کوششوں کے بعد اگست 2010ء میں اُنھیں اسامہ بن لادن کے ممکنہ ٹھکانے کے بارے میں مطلع کیا، تاہم یہ اطلاعات مصدقہ نہیں تھیں اور اُن کی تصدیق میں کئی ماہ لگ گئے۔ ”آخر کار گذشتہ ہفتے میں نے فیصلہ کیا کہ کارروائی کرنے کے لیے ہمارے پاس خاطر خواہ معلومات موجود ہیں، اور میں نے اسامہ کو پکڑنے اور اُسے قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے آپریشن کی منظوری دی۔‘‘

صدر اوباما نے اتوار کے اپنے پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری سے بھی ٹیلی فون پر بات کی۔ اپنی تقریر میں اوباما نے پاکستان کے ساتھ جاری تعاون کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم اسلام کے خلاف جنگ نہیں کررہے۔ اسامہ کئی مسلمانوں کا قاتل تھا۔

صدر نے کہا کہ آج امریکی عوام مطمئن ہیں۔

پاکستان میں سرکاری طور پر اس تمام صورت حال پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ایوان صدر کے ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی زیر صدرات ایوان ہونے والے ایک اجلاس میں اہم حکومتی اور سکیورٹی اداروں کے سربراہوں نے شرکت کی جس میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا معاملہ زیر بحث آیا۔

صدراتی ترجمان فرحت الله بابر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی اجلاس میں موجود تھے اور تمام بات چیت کے بعد اب وزارت خارجہ کی طرف سے حکومتی موقف سے متعلق ایک بیان جاری کیا جا رہا ہے۔

سی این این نے ایک امریکی سینیٹر کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی کاؤنٹر اینٹیلیجنس کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ یہ آپریشن امریکی انٹیلیجنس کی کامیابی کا نتیجہ ہے۔ اس آپریشن میں پاکستانی انٹیلیجنس نے بھی حصہ لیا۔

سابق امریکی صدر جارج بش نے ایک بیان میں بن لادن کی ہلاکت پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ایک تاریخی کارنامہ ہے اور بن لادن کو ان کے انجام تک پہنچا دیا گیا ہے۔

کانگریس میں بین الاقوامی امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین کانگریس مین ہاورڈ برمن نے کہا ہے کہ اسامہ کی موت امریکہ اور آزاد دنیا کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اسامہ امریکہ اور آزاد دنیا کا دشمن تھا۔

voice of America

You might like

There are no related posts