Journalist Saleem Shahzad found dead in Sarai Alamgir

Journalist Saleem Shahzad found dead in Sarai Alamgir

ISLAMABAD: Journalist Syed Saleem Shahzad’s body was found in Sarai Alamgir, nearly 200 kilometres from Islamabad on Tuesday.

Shahzad was the Pakistan bureau chief of Asia Times Online. He went missing from Islamabad on Sunday evening.

Advertisement


Reports claim that it has been confirmed that his body has been identified and showed signs of torture.

Earlier it had been reported that Shahzad’s car had been found in Sarai Alamgir and a body had also been discovered nearby. However, it had not been identified at the time. Police also reported finding a diary in the car with many contacts listed inside it.

 

 

Advertisement


Days before his disappearance, Shahzad had authored an article that alleged links between navy officials and al Qaeda.

Source:http://www.dawn.com/2011/05/31/car-belonging-to-missing-journalist-found-in-sarai-alamgir.html

 

دو روز قبل اسلام آباد سے لاپتہ ہونے والے پاکستانی صحافی سلیم شہزاد کی لاش صوبہ پنجاب کے علاقے منڈی بہاؤالدین سے مل گئی ہے جسے نامعلوم افراد نے تشدد کرکے ہلاک کیا اور ان کی لاش کو نہر میں پھینک کر فرار ہوگئے۔

سلیم شہزاد کی گاڑی منڈی بہاؤ الدین کے قریبی علاقے سرائے عالمگیر کے قریب سے مل گئی ہے۔

سلیم شہزاد کے برادرنسبتی حمزہ امیر اور تھانہ مارگلہ کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر محمد شفیق نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ سلیم شہزاد کو اُن کی تصاویر سے شناخت کیا ہے۔ مقامی پولیس کو سلیم شہزاد کی لاش پیر کے روز ملی تھی جس کا پوسٹارٹم کرنے کے بعد اُنہیں امانتا دفنا دیا گیا تھا۔

تھانہ مارگلہ کے ایس ایچ او فیاض تنولی نے، جہاں پر سلیم شہزاد کی گمشدگی کی رپورٹ درج کی گئی تھی، بی بی سی کو بتایا کہ اُنہیں سرائے عالگیر کے علاقے سے وہاں پر موجود پولیس نے اطلاع دی ہے کہ اُن کے علاقے سے لاپتہ ہونے والے شخص کی گاڑی مل گئی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ مقامی پولیس کے مطابق اس گاڑی کے قریب سے ایک نوجوان شخص کی لاش ملی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ پولیس کی ایک ٹیم لاش کی شناخت کے لیے سرائے عالگیر گئی ہے اور پولیس پارٹی کے ہمراہ اس مقدمے کے مدعی اور سلیم شہزاد کے بردار نسبتی حمزہ امیر بھی ہیں۔

پولیس انسپکٹر فیاض تنولی سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہاں کے مقامی پولیس اور لوگوں کو یہ کیسے علم ہوا کہ جس شخص کی یہ گاڑی ہے اُس کی گمشدگی کی رپورٹ تھانہ مارگلہ میں درج ہے، تو وہ کوئی اس کا جواب نہ دے سکے۔

حمزہ امیر نے متعلقہ تھانے میں سلیم شہزاد کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرواتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دینے کے لیے نکلے تھے جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئے ہیں۔

سلیم شہزاد ایک ویب سائٹ ایشاء ٹائمز کے لیے کام کرتے تھے اورا نہوں ستائیس مئی کو ہانگ کانگ کی ویب سائٹ ایشیا ٹائمز میں ایک تحقیقی رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں انہوں نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان بحریہ اور القاعدہ میں مذاکرات کی ناکامی کی وجہ سے شدت پسندوں نے فضائیہ کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

حمزہ امیر نے کہا کہ اگرچہ اُن کے پاس ایسے کوئی ثبوت نہیں ہیں کہ سلیم شہزاد کے اغوا میں کون ملوث ہیں تاہم ماضی میں جب کبھی بھی ایسے واقعات ہوئے تو اُن میں خفیہ ایجنسیاں ملوث پائی گئی ہیں۔

صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز وداؤٹ بارڈر کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سنہ دوہزار آٹھ میں اُنتیس، دو ہزار نو میں پینتیس اور دوہزار دس میں اکیاون صحافیوں کو اغوا کیا گیا۔

تھانہ منڈی بہاوالدین کے سب انسپکٹر محمد اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کے علاقے میں واقع ایک بجلی گھر کے قریب نہر سے پیر کی دوپہر ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی تھی جس کے چہرے پر زخم کے نشانات تھے۔

اُنہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نامعلوم شخص کو سرائے عالمگیر سے آنے والی نہر میں پھینک دیا گیا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ لاش ہیڈ رسول بجلی گھر کے قریب جھاڑیوں میں پھنسی ہوئی تھی تاہم اس کی واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے لاش کو قبضے میں لیکر پوسٹمارٹم کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا۔

سب انسپکٹر محمد اسلم کا کہنا تھا کہ پوسٹارٹم کے بعد لاش کو ایدھی ویلفئیر سینٹر کے حوالے کر دیا تھا جنہوں نے امانتاً اُسے قبرستان میں دفن کردیا تھا۔

تھانہ مارگلہ کے سب انسپکٹر محمد شفیق کا کہنا تھا کہ تھانہ سرائے عالمگیر پولیس اُن کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی اُنہوں نے کہا کہ ابھی تک وہ پولیس افسر سے ملاقات نہیں ہوئی جنہوں نے سلیم شہزاد کی گاڑی برامد کی تھی۔

You might like

There are no related posts