Pakistani Serving brigadier got arrested over Islamist ties

Pakistani Serving brigadier got arrested over Islamist ties

SLAMABAD (Reuters) – Pakistan has detained a brigadier assigned to army headquarters for links to a banned Islamist group, the army said Tuesday, the highest-ranking serving officer arrested in a decade.

Spokesman Major General Athar Abbas said Brigadier Ali Khan, who had an administrative post and was not involved in operations, was detained last month over links to the banned Hizb-ul-Tahrir.


پاکستانی فوج کے صدر دفاتر (جی ایچ کیو) میں تعینات ایک سینیئر فوجی افسر کو حراست میں لیا گیا ہے جن کے بارے میں، پاکستانی فوج کے مطابق، کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ساتھ روابط کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ڈیڑھ ماہ قبل اچانک ’لاپتہ‘ ہونے والے بریگیڈئر علی خان جنرل ہیڈ کوارٹر راولپنڈی میں ریگولیشن ڈائریکٹوریٹ میں قریباً دو برس سے تعینات تھے۔

پاکستانی فوج کے تعلقاتِ عامہ کے شعبے کے سربراہ میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی کے استفسار پر تصدیق کی کہ مذکورہ بریگیڈیئر پاکستانی فوج کے زیرِ حراست ہیں۔

ایس ایم ایس کے ذریعے اپنے پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ ’یہ بات درست ہے کہ وہ زیرِ حراست ہیں اور ان کے ایک کالعدم تنظیم کے ساتھ روابط کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ لیکن اس موقع پر اس بارے میں مزید تفصیلات ہماری تفتیش کو متاثر کر سکتی ہیں‘۔

بعد ازاں بی بی سی اردو کے شفیع نقی جامعی سے بات کرتے ہوئے فوجی ترجمان نے بتایا کہ ’ فوج کے خفیہ اداروں کے نوٹس میں یہ بات آئی تھی کہ بریگیڈئر علی خان ایک کالعدم تنظیم کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ کچھ عرصے بعد جب یہ یقین ہو گیا اور یہ بہت زیادہ ملوث پائے گئے تو ان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے اور تفتیش جاری ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ جس تنظیم سے بریگیڈئر علی کے روابط تھے ’وہ حزب التحریر ہے جو کہ ہمارے ملک میں کالعدم قرار دی گئی ہے‘۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ بریگیڈیر علی کی گرفتاری کا حکم فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے دیا تھا۔

بریگیڈیئر علی خان کے خاندان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ چھ مئی کی شام گھر نہیں لوٹے اور اعلیٰ فوجی حکام سے رابطہ کرنے پر ان کے اہلِ خانہ کو بتایا گیا کہ ’بریگیڈیئر صاحب سے کچھ سوالات کی غرض سے انہیں روک لیا گیا ہے اور وہ بہت جلد گھر لوٹ آئیں گے‘۔

ایک اہم عہدے پر تعینات پاکستانی فوج کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک بریگیڈیئر علی کے خلاف باضابطہ چارج شیٹ سامنے نہیں آئی ہے لیکن پاکستانی فوج کا اعلیٰ ترین تفتیشی ادارہ سپیشل انوسٹی گیشن برانچ (ایس آئی بی) بریگیڈیئر علی کے اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ روابط کی تفتیش کر رہا ہے۔

ایس آئی بی فوج کے اندر بہت سنگین نوعیت کے جرائم کی تفتیش کے لیے جانی جاتی ہے۔

زیرِ تفتیش بریگیڈیئر کے اہلِ خانہ اس سارے معاملے پر میڈیا کو کسی قسم کا بیان جاری کرنے سے اجتناب کر رہے ہیں اور ان کا معاملہ عدالت میں لے جانے سے بھی گریزاں ہیں۔

پاکستان فوج کے ساتھ اس خاندان کے تین نسلوں کے تعلق کی بنا پر بریگیڈیئر علی کے اہلِ خانہ کو امید ہے کہ انہیں جلد رہا کر دیا جائے گا۔ بریگیڈیئر علی کے والد پاکستانی فوج میں جونیئر کمیشنڈ افسر تھے، ان کے چھوٹے بھائی فوج میں کرنل ہیں اور ملک کے ایک اہم انٹیلیجنس ادارے میں خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ ان کے داماد اور صاحبزادے بھی فوج میں کپتان ہیں۔

بریگیڈیئر علی کا پاکستانی فوج کے ساتھ یہ تعلق ہی اصل میں پاکستانی فوج کی اعلیٰ قیادت کے لیے شدید پریشانی کا باعث ہے۔

ایک اہم فوجی ذریعے کے مطابق پاکستانی فوج کی اعلیٰ قیادت بریگیڈیئر علی جیسے ’شاندار‘ اور فوج کے ساتھ تین نسلوں سے وفادار افسر کے بارے میں اس طرح کی اطلاعات پر خاصی پریشان رہی اور ان کی گرفتاری سے قبل فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دفتر میں اس معاملے پر بھی بات کی گئی اور اس بات چیت سے باخبر ایک افسر کے مطابق جنرل اشفاق پرویز کیانی نے  بریگیڈیئر علی کی گرفتاری کا ذاتی طور پر حکم دیا تھا۔

The detention follows growing pressure on Pakistan to root out any suspected Islamist militant sympathizers from its ranks after Osama bin Laden was found and killed by U.S. forces in the Pakistani garrison town of Abbottabad on May 2.


U.S. officials have said the al Qaeda leader may have been helped by some elements within the Pakistani security establishment.

Abbas said efforts were being made to trace other members of Hizb-ul-Tahrir - a radical but non-violent group which seeks the establishment of an Islamic caliphate - who had been in contact with the brigadier.

"We follow zero tolerance policy of such activities within the military. Therefore prompt action was taken on detection," Abbas told Reuters. He declined to go into details.

A military official, who declined to be identified, ruled out the possibility of the brigadier's involvement in any plot. "He just had contacts with the banned group. But he was not involved in any type of conspiracy,"

Khan, who lived in the garrison town of Rawalpindi where army headquarters is based, is from a family of soldiers - his father was a junior officer while he has two sons and one son-in law in the army.

His wife Anjum rejected the allegations against him as "rubbish."

"Every general knows Brigadier Ali Khan. Even (army chief) General (Ashfaq) Kayani knows him," she told Reuters. "We can never think of betraying the army or our country.

"He was an intellectual, an honest, patriotic and ideological person. It's a fashion here that whosoever offers prayers and practices religion is dubbed as Taliban and militant."

Hizb-ul-Tahrir, which is active in many Muslim countries and also in Britain, was banned in Pakistan in 2003.

The group says it does not advocate violence, but many critics say it has ties to militant organizations.

It tends to attract supporters among the young and the educated elite, making it a possible lure for army officers drawn to political Islam.

(Additional reporting Zeeshan Haider; Editing by Myra MacDonald and Ron Popeski)

You might like

There are no related posts